ہفتہ 12 ستمبر 2026 - 11:36
انصار اللہ کی پیش قدمی؛ مزاحمتی محاذ کا کرشمہ اور ایران کی فتوحات کا تتمہ 

حوزہ/ اگر آج آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بات کی جائے تو علاقائی طاقت کے اکویشن میں دونوں ہی کا فیصلہ کن کردار ہے۔ آبنائے ہرمز میں ایران کے پاس دباؤ کا ایک بہت اہم اسٹریٹجک وسیلہ ہے تو تحریک انصار اللہ بھی آبنائے باب المندب میں ایسی پوزیشن میں پہنچ چکی ہے کہ اس آبی گزرگاہ کے یمنی حصے کا مؤثر کنٹرول اس کے ہاتھ میں ہے۔

تحریر: مولانا سید حسن عباس زیدی، تہران

حوزہ نیوز ایجنسی | یمن میں انصار اللہ کی حالیہ اسٹرٹیجک پیشرفت کو صرف ایک داخلی جنگ میں عسکری کامیابی کے طور پر دیکھنا، اس کے ہمہ جہت پہلوؤں سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا۔ المخا، ذُباب، جزیرۂ حنیش اور جزیرۂ میون جیسے مقامات پر کنٹرول یا مؤثر موجودگی نے یمن کے مغربی ساحل کو ایک ایسے جیو پولیٹکل میدان میں بدل دیا ہے جہاں داخلی جنگ کے اثرات بحیرۂ احمر، خلیج عدن، مشرقی افریقا اور جہاز رانی، توانائی اور عالمی تجارت تک پھیل سکتے ہیں۔ خصوصاً جزیرۂ میون کی اہمیت اس لیے غیر معمولی ہے کہ یہ باب المندب سے متصل ہے اور اس انتہائی اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول کے لحاظ سے بہت اہم ہے۔ باب المندب محض ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شریانوں میں سے ایک ہے۔ یہ بحیرۂ احمر کو خلیج عدن اور بالواسطہ طور پر بحر ہند سے جوڑتی ہے۔ اسی طرح اس کے شمال میں نہر سوئز یورپ اور ایشیا کے درمیان بحری تجارت کا مختصر ترین راستہ فراہم کرتی ہے۔ اس لیے اس خطے میں کسی ایسی طاقت کی مضبوط موجودگی، جو بحری آمد و رفت کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو، اسے ایک علاقائی فریق کی پوزیشن سے ہٹا کر عالمی پوزیشن عطا کر دیتی ہے۔ اس تناظر میں یہ بات فراموش نہیں کی جانی چاہیے کہ ماضی میں بحیرۂ احمر میں انصار اللہ کی کارروائيوں کے سبب بڑی تعداد میں بحری جہازوں کو ایک لمبا راستہ طے کرنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔

یہیں سے انصار اللہ کی حالیہ پیش قدمی کی اصل جیوپولیٹیکل اہمیت سامنے آتی ہے۔ یمن کے مغربی ساحل اور باب المندب کے اطراف میں اپنی پوزیشن مستحکم کرکے تحریک انصار اللہ نے ایک ایسی اسٹرٹیجک گہرائی حاصل کر لی ہے جس کے ذریعے وہ محض یمنی میدان جنگ میں نہیں بلکہ پورے خطے کے بحری اور سیاسی توازن میں ایک مؤثر عامل بن سکتی ہے۔ اس تبدیلی پر سعودی عرب کا ردعمل شاید اس کی اہمیت کی سب سے واضح دلیل ہو۔ محمد بن سلمان نے ایک سے زائد بار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کر کے انھیں انصار اللہ کے خلاف براہ راست میدان میں آنے کی درخواست کی لیکن ٹرمپ نے انصار اللہ سے براہ راست فوجی ٹکراؤ سے گریز کیا ہے جسے کوئی معمولی فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ امریکا بخوبی جانتا ہے کہ براہ راست ایک نیا محاذ کھولنا، بحران کا دائرہ یمن سے کہیں آگے بڑھا دے گا کیونکہ ایران کی جنگ میں اسے پے در پے ہزیمت اٹھانی پڑ رہی ہے۔ اس کے باوجود واشنگٹن نے مسئلے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اپنے ایک سو اور بعض رپورٹوں کے مطابق دو سو عسکری ماہرین کو اس جنگ میں مدد کے لیے سعودی عرب بھیج دیا ہے۔ اس کا مطلب بالکل واضح ہے اور وہ یہ ہے کہ امریکا، انصار اللہ کے خطرے کو اتنا سنجیدہ سمجھتا ہے کہ سعودی عرب کو تنہا چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہے تاہم وہ ایسی جنگ میں براہ راست کودنے کے لیے بھی تیار نہیں ہے کہ جس کے نقصانات اس کے ابتدائی اندازوں سے بھی زیادہ ہو سکتے ہیں۔

ان باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے انصار اللہ کی حقیقی طاقت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ جس تحریک کو برسوں سے محاصرے میں رکھا گيا اور اسے عسکری اور معاشی دباؤ کے ذریعے میدان سے پوری طرح باہر نکال دینے کا منصوبہ بنایا گيا تھا، اس نے آج ریاض کو واشنگٹن کے سامنے مدد کے لیے گڑگڑانے پر مجبور کر دیا ہے۔ پوزیشن کی یہ تبدیلی، بجائے خود ایک سوق الجیشی اہمیت رکھتی ہے اور بتاتی ہے کہ تحریک انصار اللہ اب وہ فریق نہیں ہے جس کے بارے میں دوسرے فیصلہ کریں بلکہ وہ خود ایسی پوزیشن میں پہنچ چکی ہے کہ دوسرے، اس کے طرز عمل اور فیصلے کے لحاظ سے اپنے فیصلے کرنے پر مجبور ہیں۔ اسی تناظر میں مزاحمتی محاذ کا تصور بھی زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔ اس محاذ کی بنیادی حکمت عملی صرف ایک متحدہ عسکری محاذ تشکیل دینا نہیں بلکہ خطے کے مختلف جغرافیائی مقامات کو ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ایسی اسٹریٹجک گہرائی میں تبدیل کرنا ہے جس سے دشمن کے لیے بیک وقت متعدد محاذوں کا دباؤ پیدا ہوسکے۔ ایران، یمن، لبنان، عراق اور فلسطین کے درمیان جغرافیائی فاصلہ اپنی جگہ، مگر مزاحمتی فکر انھیں ایک مشترکہ سیاسی و نظریاتی سوچ سے جوڑتی ہے۔ انصار اللہ کی قوت اسی وسیع تر تصور میں یمن کو محض ایک ملک نہیں بلکہ بحیرۂ احمر کے جنوبی دروازے پر واقع مزاحمت کے ایک اسٹرٹیجک پوائنٹ میں تبدیل کرتی ہے۔

امریکا کے لیے یہ صورت حال اس لیے تشویش ناک ہے کہ مغربی ایشیا میں واشنگٹن کی طاقت کا ایک اہم عنصر، آزاد بحری آمد و رفت، توانائی کی ترسیل اور اپنے اتحادیوں تک فوری پہنچ ہے۔ باب المندب میں مزاحمتی محاذ کی بڑھتی ہوئی صلاحیت امریکا کی سمندری اسٹریٹجی کے لیے ایک اضافی چیلنج پیدا کرتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خلیج فارس اور آبنائے ہرمز پہلے ہی شدید جیو پولیٹکل کشیدگی کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ باب المندب اور ہرمز دونوں پر بیک وقت دباؤ پیدا ہونے کی صورت میں توانائی اور عالمی تجارت کے لیے خطرات کہیں زیادہ وسیع ہوسکتے ہیں۔ ادھر اسرائیل کے لیے معاملہ اس سے بھی زیادہ حساس ہے۔ بحیرۂ احمر، اسرائیل کے لیے ایشیا اور مشرقی افریقا کی سمت ایک اہم بحری راستہ ہے۔ انصار اللہ نے اس سے پہلے بھی بحران غزہ کے دوران بحر احمر میں اسرائیل سے آنے یا اسرائيل جانے والے بحری جہازوں کی آمد و رفت پر مہینوں تک پابندیاں عائد کی تھیں۔ یوں یمن کا محاذ اسرائیل کے لیے صرف ایک دور افتادہ جنگی میدان نہیں بلکہ اس کے بحری رابطوں، سمندری تجارت، علاقائی رسائی اور محاصرے جیسی صورتحال سے جڑا ہوا مسئلہ بن چکا ہے۔

انصار اللہ کی طاقت کو صرف میزائل، ڈرون یا جغرافیائی محل وقوع تک محدود کرنا، اس تصویر کا ایک بڑا حصے کو نظر انداز کر دینے جیسا ہوگا۔ اس تحریک کی اصل طاقت اس استقامتی فکر میں ہے جس کے تحت طویل جنگ، محاصرہ، معاشی دباؤ اور مسلسل عسکری خطروں کو مزاحمت کے خاتمے کا سبب نہیں بلکہ اس کے عزم و ارادے کو آزمانے کا مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جس نے یمن کے محدود وسائل رکھنے والے ایک فریق کو برسوں کی جنگ کے باوجود اپنا سیاسی و عسکری ڈھانچہ قائم رکھنے میں مدد دی۔ اس استقامت کے پیچھے انصار اللہ کے جذبۂ ایمان کا بنیادی کردار ہے۔ اس کے سیاسی و مذہبی بیانیے میں مزاحمت، اقتدار کی کشمکش نہیں بلکہ ظلم کے مقابلے میں خود مختاری کے دفاع اور فلسطین کے ساتھ اظہار یک جہتی کا وسیلہ ہے۔ یہی نظریاتی عنصر جنگ کو محض میدان جنگ کی کارروائی نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے ایک طویل اخلاقی اور اعتقادی جدوجہد کا رنگ دیتا ہے۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو انصار اللہ کے لیے استقامت کا مفہوم صرف دشمن کو شکست دینا نہیں بلکہ دباؤ کے باوجود اپنے فیصلے اور ارادے پر قائم رہنا بھی ہے۔ اس طرح انصار اللہ کی حالیہ پیش رفت مغربی ایشیا کے بدلتے ہوئے توازن کی ایک اہم علامت ہے۔

اگر آج آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بات کی جائے تو علاقائی طاقت کے اکویشن میں دونوں ہی کا فیصلہ کن کردار ہے۔ آبنائے ہرمز میں ایران کے پاس دباؤ کا ایک بہت اہم اسٹریٹجک وسیلہ ہے تو تحریک انصار اللہ بھی آبنائے باب المندب میں ایسی پوزیشن میں پہنچ چکی ہے کہ اس آبی گزرگاہ کے یمنی حصے کا مؤثر کنٹرول اس کے ہاتھ میں ہے۔ صرف یہی دو مقامات اس بات کی بخوبی عکاسی کرتے ہیں کہ خطے میں طاقت کا جغرافیائی محل وقوع، عرب دارالحکومت، واشنگٹن یا تل ابیب میں طے نہیں ہوتا۔ مزاحمتی محاذ کے دشمنوں کے لیے یمن کے تغیرات کا پیغام بہت واضح ہے: مزاحمت اب ایک عارضی اور کچھ حملوں یا پابندیوں سے ختم ہونے والا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ محاذ، علاقائی طاقت کے ڈھانچے کا ایک اٹوٹ حصہ بن چکا ہے اور اس حقیقت کو خطے کی شاہی حکومتیں اور خطے سے باہر کی طاقتوں سے ساز باز کرنے والے ممالک جتنی جلدی سمجھ لیں، اتنا ہی اچھا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha